لکھنؤ،25؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی) سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے بدھ کو ریاست میں لاء اینڈ آرڈرکے معاملے میں یوپی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں نظم ونسق اپنی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔
اکھلیش یادو نے دعوی کیا کہ بے روزگاری سے دلبرداشتہ افراد خودکشیاں کر رہے ہیں وہیں صوبہ کا نوجوان اپنےآپ کو ٹھگا ہوا محسوس کررہا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے اس کی زندگی پہلے سے ہی بے پٹری تھی۔ ذریعہ معاش، پڑھائی، تجارت کے مواقع بی جے پی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سےمعدوم ہیں۔
اکھلیش یادو نے سوال کیا کہ اوریا میں ضلع جج کی گاڑی کے شیشے توڑ دئیےجاتے ہیں ۔ جب جج ہی محفوظ نہیں ہیں تو عوام الناس کے ساتھ کیا ہوگا؟اناؤ میں ایک پولیس سپاہی پر دو بدمعاشوں کے ذریعہ کلہاڑی سے حملہ کیا جاتا ہے۔اس کی بائیک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔
سابق وزیر اعلی نے کہا کہ لکھیم پور میں ایک سی او اپنے ہی ڈرائیور پر پستول تان دیتا ہے۔اور سی کے خلاف سخت کاروائی کرنے کے بجائے اسے ٹریفک ڈپارٹمنٹ میں بھیج کر معاملے کو رفع دفع کردیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ریاستی نوجوانوں کے ناامیدی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا ہے۔ہر نوکری میں بدعنوانی کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں۔کروڑ افراد کو نوکریاں دینے کا پروپیگنڈہ کر کے نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہے۔